نئی دہلی ،21؍ فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مرکز نے 11000کروڑ روپے سے زیادہ رقم کے پنجاب نیشنل بینک اسکینڈل کے معاملے کی جانچ اور اس معاملے میں مبینہ طور پر شامل ڈائمنڈ تاجر نیرومودی کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لئے خصوصی تفتیشی ٹیم کی تشکیل کی درخواست کرنے والی پٹیشن کی آج سپریم کورٹ میں مخالفت کی۔حکومت نے کہا کہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس دھننجی وائی چندرچوڑ کی بینچ نے کہاکہ اس وقت وہ اس معاملے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ رہی ہے۔بنچ نے اس کے ساتھ ہی وکیل ونیت ڈھاڈا کی پٹیشن آگے سننے کے لیے 16 مارچ کو نامزد کردی۔مرکز کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد تحقیقات شروع ہو جانے سمیت کئی نکات پر مفاد عامہ کی عرضی کی مخالفت کر رہے ہیں۔مفاد عامہ کی عرضی میں پنجاب نیشنل بینک، بھارتی ریزرو بینک اور وزارت خزانہ اور وزارت قانون و انصاف کو مدعا علیہ بنایا گیا ہے۔اس میں اس بینکاری فراڈ میں مبینہ طور پر شامل مودی اور دیگر کو دو ماہ کے اندر واپس لانے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی جائے۔ عرضی میں ڈائمنڈ کے تاجر مودی اوراس دھوکہ دہی کے معاملے کی خصوصی تفتیشی ٹیم سے جانچ کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔اس کے علاوہ اس میں پنجاب نیشنل بینک کے منیجر کے کردار کی بھی جانچ کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔تفتیشی بیورو نے اس گھوٹالے کے معاملے میں مودی، اس کے رشتہ دار گیتانجلی جیمز کے میہل چوکسی اور دیگر کے خلاف 31جنوری کو پہلی ایف آئی آر درج کی تھی اور اب کچھ دن پہلے اس نے ایک اور ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔عرضی میں دس کروڑ روپے یا اس سے زیادہ رقم کے قرضوں کی منظوری اور اس کے تقسیم کی صورت میں اس رقم کی حفاظت اور وصولی کو یقینی بنانے کے لئے ہدایات تیار کرنے کی وزارت خزانہ کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔